ہے۔(۱) خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک عمامے کا شملہ عموماً پشت (یعنی پیٹھ مبارک) کے پیچھے ہوتا تھا، کبھی سیدھی جانب اور کبھی دونوں کندھوں کے درمیان دو شملے ہوتے۔ الٹی جانب شملہ کا لٹکانا خلافِ سنت ہے۔(۲)
سبزعمامے کی کیا بات ہے:
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 40 صفحات پر مشتمل رسالے ’’163مدنی پھول‘‘صفحہ 27 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا عمامہ شریف اکثرسفید،کبھی سیاہ اور کبھی سبز ہوتا تھا۔‘‘ (۳) اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سبز رنگ کا عمامہ شریف بھی سبز سبز گنبد کے مکین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سرِانور پر سجایا ہے، ’’دعوتِ اسلامی‘‘ نے سبزسبز عمامے کو اپنا شعاربنایا ہے، سبز سبزعمامے کی بھی کیا بات ہے،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)…فتاوی رضویہ،ج۲۲،ص۱۸۲
(۲)…اشعۃ اللمعات،ج۳،ص۵۸۳
(۳)…کشف الالتباس فی استحباب اللباس،ص۳۸