طریقہ یہ بھی ہے کہ پہلا شملہ سرکے اوپرسے لے کرسینے پر ڈال لیں اور پھر پہلا پیچ دائیں طرف کوگھمائیں اس طرح عمامہ باندھتے ہوئے آخری شملہ پیٹھ کے پیچھے ڈال دیں ،اب سرکے اوپر سے عمامہ شریف کو تھوڑا سا اوپر کر کے کھول دیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس طرح گنبدنما عمامہ شریف باندھنے میں آسانی ہو گی۔
(3)… ٹوپی پرعمامہ باندھنا:
سرکارِ مدینہ، راحت ِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عمامہ شریف ٹوپی پر باندھتے تھے، لہٰذا ہمیں بھی ٹوپی پر عمامہ باندھنا چاہیے اگرچہ بغیر ٹوپی بھی عمامہ باندھنے سے مطلقاً فضیلت حاصل ہو جائے گی مگر ٹوپی پر باندھنا افضل ہے۔ جیسا کہ اعلی حضرت امام اہلسنت مولاناشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ، جلد۶، صفحہ۲۰۹ پر علّامہ ملاعلی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْہَادِی کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں:’’عمامہ سے متعلقہ تمام روایات سے عمامہ کی فضیلت مطلقاً ثابت ہُوئی اگر چہ بغیر ٹوپی کےہو، ہاں ٹوپی کے ساتھ عمامہ باندھنا افضل ہے۔‘‘
(4)… عمامہ کھڑے ہو کر پہننا:
بہارِ شریعت جلدسوم، حصہ۱۶، ص۶۶۰ پر ہے: ’’عمامہ کھڑے ہو کر باندھے اور پاجامہ بیٹھ کر پہنے۔ جس نے اس کا الٹا کیا وہ ایسے مرض میں مبتلا ہوگا