اپنے دستِ اقدس سے میرے سر پر عمامہ کا تاج سجایا اور (باندھتے ہوئے) اس کا شملہ میرے سینے اور پیٹھ پر لٹکا دیا۔‘‘(۱)
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ جس طرح خوداپنے سرپر عمامہ شریف باندھنا سنت ہے اسی طرح کسی دوسرے کے سر پر عمامہ شریف باندھنا بھی سنت سے ثابت ہے۔
’’عمامہ‘‘کے پانچ حروف کی نسبت سے
عمامہ شریف کے فضائل پر (5 ) احادیث مبارکہ
(۱)…فَاِنَّ الْعِمَامَۃَ سِیْمَاءُ الْاِسْلَامِ وَھِیَ حَاجِزَۃٌ بَیْنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُشْرِکِیْنَ عمامہ اسلام کا شعار ہے اور یہی عمامہ مسلموں اور مشرکوں کے مابین فرق کرنے والا ہے۔‘‘ (۲)
(۲)… اِعْتَمُّوْا تَزْدَادُوْا حِلْما یعنی عمامہ باندھو تمہارا حلم بڑھےگا۔(۳)
(۳)… عمامہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ھٰکَذَا تَکُوْنُ تِیْجَانُ الْمَلٰئِکَۃ یعنی فرشتوں کے تاج ایسے ہوتےہیں۔(۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)…سنن ابى داود، كتاب اللباس، باب في العمائم، الحدیث: ۴۰۷۹، ج۴، ص۷۷
(۲)…کنزالعمال، الحدیث:۴۱۹۰۴ ،ج۸، الجزء ۱۵، ص ۲۰۵
(۳)المعجم الکبیر،باب ماجاء فی لبس العمائم الخ، الحدیث: ۵۱۷، ج۱، ص ۱۹۴
(۴)کنزالعمال، الحدیث: ۴۱۹۰۶، ج۸، الجزء ۱۵، ص ۲۰۵