Brailvi Books

حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
84 - 126
پہلا اعزاز:
حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو جہاں کے تاجْوَر،سلطانِ بحروبَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جہاد کی تیاری کرنے کا حکم دیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جلدی جلدی عمامہ شریف پہن کر بارگاہِ ناز میں حاضر ہو گئے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے جہادپر روانہ کرنے سے پہلے نصیحتوں کے کچھ مدنی پھول عطا فرمانے کے بعدآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کواپنے پاس بلایا، اور اپنے سامنے قدموں میں بٹھاکر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عمامہ کھولا، پھر خود اپنے دستِ اقدس سے سیاہ عمامہ باندھا اور ارشاد فرمایا:’’اے ابن عوف! عمامہ ایسے باندھا کرو۔‘‘(۱)
حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اس کرم نوازی کو اکثر یاد کرتے اور تحدیثِ نعمت کے طور پر اس کا ذکر بھی فرمایا کرتے۔ چنانچہ، 
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ’’ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)…کتاب المغازی، سریۃ امیرھا عبد الرحمن بن عوف، ج۲، ص۵۶۰،ملتقطاً