Brailvi Books

حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
83 - 126
 رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے گویا انہیں یوں تسلی دی: 
سنتوں کے اے مبلغ ہو مبارک تجھ کو
تجھ سے سرکار بڑا پیار کیا کرتے ہیں
امیر المومنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی محبت کے بھی قربان! کہ فقط زبانی تسلی کوکافی نہ سمجھابلکہ خودبارگاہِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تصدیق کروائی کہ حضور ناراض نہیں ہیں۔
اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی ان پر رحمت ہواوران کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمین
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
آپ کے اعزازات:
حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے والہانہ عشق فرمایاکرتے تھے،توخودسرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بھی انہیں اپنی خصوصی شفقتوں سے نوازتے رہتے تھے،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بے پناہ محبت کی بنا پر بارگاہِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے کئی بار آپ کوایسے اعزازات سے نوازا گیاجن سے بہت کم صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو نوازا گیا۔ چنانچہ،