ہوتاہے تواس کے بعداسے اچھے لفظوں سے یادنہیں کیاجاتا،لیکن قربان جائیے حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات مبارکہ پرکہ مالدار ہونے کے باوجود آپ نےاپنی پوری زندگی نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت اور آپ کے اہل بیت کی خدمت میں گزاردی،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے انتقال کے وقت صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے اپنے مبارک الفاظوں سے وہ خراج تحسین پیش کیاجسے رہتی دنیاتک یادرکھاجائے گا چنانچہ،
حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کے جنازے کے موقع پرکچھ اس طرح ارشاد فرمایا: ’’اے عبد الرحمن ۔۔۔!تمہیں مبارک ہو کہ دارالعمل میں جو تم نے نیکیوں کا گنجینہ کمایا اسے بغیر کمی کیے صحیح و سالم دار الجزاء منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ (یعنی حکومت وخلافت سے تم کوسوں دور رہے جو نیکیوں کے خزانے میں کمی کا سبب بن سکتی تھی) (۱)اورامیر المومنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم یوں فرمانے لگے:’’اے عبد الرحمن! جاؤ، بے شک دنیا کی تمام بھلائیاں تم پاچکے اور اسکی برائیوں سے تم محفوظ رہے۔‘‘(۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)…المستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب ذکرمناقب عبدالرحمن بن عوف، الحدیث: ۵۳۸۹، ج۴، ص۳۶۲
(۲)…المعجم الکبیر، سن عبد الرحمن بن عوف و وفاتہ، الحدیث: ۲۶۳،ج ۱،ص ۱۲۸