جلیل القدر صحابۂ کرام کے نزدیک آپ کا ایک نمایاں مقام تھا جس کااندازہ یوں بھی بخوبی کیا جاسکتا ہے کہ حضرت سیِّدُناعمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر نمازِ فجر پڑھاتے ہوئےاچانک ابولولو فیروز مجوسی نےخنجر سے حملہ کرکے شدید زخمی کر دیا اوربھاگتے ہوئے کم وبیش دیگرتیرہ نمازیوں کو بھی زخمی کردیاجن میں سے بعد میں سات آدمی شہید ہوگئے۔ایک بزرگ نمازی نے ابولولو مجوسی پراپنی چادر پھینک کر پکڑ لیا تو اس نے خودکشی کرلی۔ تو اس موقع پر بھی حضرت سیِّدُناعمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کاہاتھ پکڑ کر نماز میں اپناخلیفہ بنا دیا جنھوں نے مصلیٰ پر جا کر مختصر نماز پڑھائی۔ (۱)
دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ:
حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کاانتقال ۳۱یا ۳۲ سن ہجری میں امیر المومنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ خلافت میں ہوا، انتقال کے وقت آپ کی عمر۷۲ یا ۷۵ سال تھی، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نمازِ جنازہ امیر المومنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پڑھائی۔(۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)…صحیح البخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ، الحدیث ۳۷۰۰، ج ۲، ص ۵۳۱
(۲)…المعجم الکبیر، الحدیث: ۲۶۲، ج۱، ص۱۲۸
معرفۃ الصحابۃ، معرفۃ عبد الرحمن بن عوف، ج۳، ص۲۶۰