Brailvi Books

حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
116 - 126
احسن دیگرصحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی طرف منتقل کردیا،اس کی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دلی طورپرعہدہ خلافت کو پسند نہیں فرماتے تھے۔چنانچہ،
عہدۂ خلافت سے بیزاری:
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی ھےترععوععَنْہ کو جب نکسیرکاعارضہ لاحق ہوااورشدت اختیارکرگیا توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے کاتب حضرت حمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوبلاکرفرمایا:’’میرے بعدمسند خلافت کے لیےعبدالرحمن بن عوف کا نام لکھو۔‘‘ حضرت حمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس حکم پرعمل کرنے کے بعدحضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس گئے اور انہیں کہا کہ ’’میرے پاس آپ کے لیے ایک خوشخبری ہے۔‘‘حضرت عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’بتاؤ کیا ہے؟‘‘حضرت حمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں بتایا کہ’’ خلافت کے لیے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بعدآپ کا نام منتخب فرمایاہے۔‘‘حضرت عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ سن کر عہدۂ خلافت سے بیزاری کے سبب ایک دم بے قرار ہوگئے اور مسجد نبوی میں روضۂ انور اور ممبرمبارک کے درمیان کھڑے ہوگئے اور بارگاہِ