آپ دونوں انتخاب کا معاملہ میرے سپرد کرنے کیلئے تیار ہیں؟ خدا کی قسم! میں کبھی افضل سے عدول نہیں کروں گا۔‘‘ دونوں حضرات نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے حضرت سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکا ہاتھ پکڑا اور کہا: ’’آپ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قرابت دار اور اسلام لانے میں پہل کرنے والے ہیں ، جیساکہ آپ خود بھی جانتے ہیں خداکی قسم! اگر میں خلافت کافیصلہ آپ کے حق میں کروں توآپ پر انصاف کرنالازم ہوگا اور اگر میں حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے متعلق فیصلہ کروں توان کی اطاعت کرنا آپ کے لیے ضروری ہوگا۔‘‘ پھر حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ہاتھ پکڑا اور اسی طرح کہا۔جب دونوں حضرات سے پکا وعدہ لے لیا تو کہا: ’’اے عثمان! اپناہاتھ اٹھاؤ۔‘‘اورپھر ان سے بیعت کرلی، پھر حضرت سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے بھی بیعت کی اور پھر سب لوگ ٹوٹ پڑے اور تمام لوگوں نے آپ کی بیعت کی۔(۱)
اس طرح خلافت کا مسئلہ بغیر کسی اختلاف و انتشارکے طے ہوگیا جو بلاشبہ حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذکاوت ودانا ئی پر دلالت کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی کرامت کا بین ثبوت بھی ہے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)…صحیح البخاری ، کتا ب فضائل اصحا ب النبی، قصۃ بیعۃ والاتفاق علی عثمان بن عفان ، الحدیث: ۳۷۰۰،ج ۲، ص ۵۳۳