حضرت سیِّدُناطلحہ بن عبیداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے متعلق ارشادفرمایا:’’میں ان چند حضرات کے سوااورکسی کو خلافت کا اہل نہیں پاتاکیونکہ جب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیاسے پردہ فرمایاتوآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان سے راضی تھے۔‘‘ امیر المومنین حضرت سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے انتقال وتدفین کے بعد حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’چھ آدمیوں کی یہ جماعت ایثار سے کام لے اورتین آدمیوں کے حق میں اپنے اپنے حق سے دستبردار ہوجائے ۔‘‘ یہ سن کر حضرت سیِّدُنازبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’میں حضرت سیِّدُناعلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حق میں دستبردار ہوتا ہوں۔‘‘ پھر حضرت سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حق میں کنارہ کش ہوگئے ۔ آخر میں حضرت سیِّدُناسعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’میں نے حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنا حق دے دیا۔‘‘ اب صرف تین حضرات حضرت سیِّدُنا عثمان غنی، حضرت سیِّدُناعلی المرتضی اور حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ رہ گئے۔ پھرحضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خلافت سے دستبردار ہوتے ہوئے باقی دو سے فرمایا کہ اب تم دونوں رہ گئے ہو۔ پھرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عثمان غنی اور حضرت سیِّدُنا علی المرتضی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے فرمایا: ’’ کیا