وعظمت کی ایک عظیم جھلک یہ ہے کہ قیامت کے دن جب عام لوگوں کوتوحساب وکتاب کے لیے روکا ہواہوگا لیکن علماء کو لوگوں کی شفاعت کے لیے روکا ہوگا، بہرحال علما کا وجود دین ودنیا کی سعادتوں اور خوبیوں کا جامع ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دینی فہم وفراست مع حکم ودانائی:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ تعالی نےحضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو جہاں دینی فہم و فراست سے نوازاوہیں حکمت ودانائی سے بھی سرفراز فرمایا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےامیر المومنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خلافت کا معاملہ جس خوش اسلوبی سے طے فرمایا ، بے شک وہ ذکاوت و دانائی پر دلالت کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی کرامت کابین ثبوت بھی ہے۔ چنانچہ،
حکمت و دانائی سے بھرپور فیصلہ:
امیرالمومنین حضرت سیِّدُناعمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بوقت وفات چھ جَنَّتِی صَحَابَہحضرت سیِّدُناعثمان غنی، حضرت سیِّدُناعلی المرتضٰی، حضرت سیِّدُناسعدبن ابی وقاص، حضرت سیِّدُنازبیر بن عوام، حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن عوف اور