Brailvi Books

حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
108 - 126
زندگیوں کو مدنی رنگ میں رنگ لیا اور راہِ خدا میں سفرکرکے لشکر کفارکے سپہ سالار ابوجہل جفاکار سے ٹکر لے لی اور اس کو خاک وخون میں لوٹتا کر دیا۔
لٹکتا ہوا بازو:
ایک رِوایت کے مطابق ان دونوں بھائیوں میں سے حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا فرمان ہے: میں اپنی تلوار لہراتاہوا ابوجہل پر ٹوٹ پڑا میرے پہلے وار سے اس کی ٹانگ کی پنڈلی کٹ کر دور جا گری۔ اس کے بیٹے عکرمہ (جو بعد میں مسلمان ہوئے) نے میری گردن پر تلوار کا وار کیا مگر اس سے میرا بازو کٹ گیا اور کھال کے ایک تسمہ کے ساتھ لٹکنے لگا۔سارادن لٹکتے ہوئے بازو کو سنبھالے دوسرے ہاتھ سے میں دشمن پرتلوار چلاتارہا۔لٹکتاہوا بازولڑنے میں رُکاوٹ بن رہا تھا لہٰذا میں نے اسے پاؤں کے نیچے دبا کرکھینچاجس سے جلد کا تسمہ ٹوٹ گیااور میں اس سے آزادہوکرپھرکفار کے ساتھ مصروفِ پیکار ہوگیا۔ معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا زخم ٹھیک ہو گیا اور یہ حضرتِ سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے عہدِ خلافت تک زندہ رہے۔ حضرت قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت ابن وہب عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْاَحَد سے روایت کی ہے کہ جنگ کے بعد حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنا کٹا ہوا بازو لے کربارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں حاضر