Brailvi Books

حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
107 - 126
 تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟ دونوں ہی کہنے لگے: ’’میں نے۔‘‘ شَہَنشاہِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِستِفسارفرمایا: جن تلواروں سے تم نے اسے قتل کیا ہے انہیں کپڑے سے صاف تو نہیں کر دیا؟ عرض کی: ’’نہیں۔‘‘ میٹھے میٹھے مصطَفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان تلواروں کو ملاحظہ فرمایا، وہ دونوں خون سے رنگین تھیں۔ فرمایا: ’’کِلَاکُمَا قَتَلَہٗ‘‘ یعنی تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ (۱)
دونوں منّوں کابھی حملہ خوب تھا بو جہل پر
بدر کے ان دونوں ننّھے جاں نثاروں کو سلام
یہ مدنی منے کون تھے؟
امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ان مدنی منوں کا تعارف کراتے ہوئے نقل فرماتے ہیں کہ یہ اسلام کے شاہین صفت ننھے مجاہدین جنہوں نے لشکر قریش کے سپہ سالار، دشمن خدا و رسول 1وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور اس اُمّت کے سند دل و سرکش فرعون ابوجہل کو موت کے گھاٹ اُتارا انکے اسمائے گرامی مُعَاذ اور مُعَوّذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہیں۔ یہ دونوں مدنی منے سگے بھائی تھے، ان کے عشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر صدہزارتحسین وآفرین اور انکے ولولۂ جہاد پر لاکھوں سلام کہ اس لڑکپن اور کھیلنے کودنے کے ایام میں ہی انہوں نے اپنی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)…صحیح البخاری، كتاب فرض الخمس، باب من لم يخمس الأسلاب …الخ، الحدیث: ۳۱۴۱، ج۲، ص۳۵۶ …… و …… سیرتِ ابنِ ھشام، ج۱، ص۵۵۹