حضرت ِسیِّدُناعبدالرحمن بن عو ف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مزید فرماتے ہیں : اچانک میں نے دیکھاکہ ابوجَہْل اپنے ڈرپوک سپاہیوں کے درمیان گشت کر کے ان کو اُکسانے کیلئے یہ رَجْز پڑھ رہا ہے:
مَا تَنْقِمُ الْحَربُ الْعَوَانُ مِنِّی بَازِلُ عَامَیْنِ حَدِیْثُ سِنِّیْ
لِمِثْلِ ھٰذَا وَلَدَتْنِیْ اُمِّیْ
یعنی یہ شدید جنگ مجھ سے کیا انتِقام لے سکتی ہے؟ میں تو نوجوان طاقتور اُونٹ ہوں جو اپنے عُنْفُوانِ شباب (یعنی بھرپور جوانی) میں ہے، میر ی ما ں نے مجھے ایسی جنگوں ہی کیلئے جَنا ہے۔‘‘
میں نے ان لڑکوں کو ابوجہل کی طرف اشارہ کر دیا۔ وہ تلواریں لہراتے ہوئے عُقابوں کی طرح جھپٹے اور اس پر ٹوٹ پڑے، و ہ زخمی ہو کر بے حس و حرکت زمین پر گر پڑا۔ دونوں اپنے پیارے اور میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضرہوگئے اور عرض کی: یارسو ل ﷲصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ہم نے ابوجَھل کو ٹھکانے لگا دیا ہے۔ سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِستِفسار فرمایا: