Brailvi Books

حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
105 - 126
(2) …ابو جہل کی ہلاکت:
 دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 32 صَفحات پر مشتمل رسالے، ’’ابوجہل کی موت ‘‘ صَفْحَہ ۲تا ۹ پر شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانیٔ  دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارقادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ابوجَہْل کی موت کا آنکھوں دیکھا واقعہ حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زبانی کچھ یوں نقل فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :بدر کے روز جب میں مجاہدین کی صَف میں کھڑا تھا، میں نے اپنے ارد گرد دو نَو عُمر انصاری لڑکے دیکھے۔ اتنے میں ایک نے آہستہ سے مجھ سے کہا: یاعَمُّ! ھَلْ تَعْرِفُ اَبَاجَھْل؟ چچا جان! کیا آپ ابوجَہْل کو پہچانتے ہیں ؟ میں نے جواب دیا: پہچانتا تو ہوں مگر تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اُس نے کہا:مجھے معلوم ہواہے وہ گستاخِ رسول ہے۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اگر میں اُس کودیکھ لوں تواس پرٹوٹ پڑوں یا تو اس کو مار ڈالوں یا خود مر جاؤں۔ اس کے ساتھ والے لڑکے نے بھی مجھ سے اسی طرح کی گفتگو کی۔ کسی شاعر نے ان دونوں بچوں کے جذبات کی یوں عکاسی کی:
قسم کھائی ہے مرجائیں گے یاماریں گے ناری کو
سنا ہے گالیاں دیتا ہے یہ محبوبِ باری کو