Brailvi Books

حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
104 - 126
 سے بھاگنا ہے، بلکہ ایسے شخص کے متعلق احادیث مبارکہ میں نہایت ہی سخت حکم ہے، جس طرح طاعون سے بھاگنا گناہ ہے اس کے لئے وہاں جانا بھی ناجائز و گناہ ہے کہ اس میں بلائے اِلٰہی سے مقابلہ کرنا ہے۔(۱)چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے: طاعون جہاں ہو وہاں سے بھاگنا جائز نہیں اور دوسری جگہ سے وہاں جانا بھی نہ چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ کمزور اعتقاد کے ہوں اور ایسی جگہ گئے اور مبتلا ہوگئے، ان کے دل میں بات آئی کہ یہاں آنے سے ایسا ہوا نہ آتے تو کاہے کو اس بلا میں پڑتے اور بھاگنے میں بچ گیا ،تو یہ خیال کیا کہ وہاں ہوتا تو نہ بچتا بھاگنے کی وجہ سے بچا ایسی صورت میں بھاگنا اور جانا دونوں ممنوع۔ طاعون کے زمانہ میں عوام سے اکثر اسی قسم کی باتیں سننے میں آتی ہیں اور اگر اس کا عقیدہ پکا ہے جانتا ہے کہ جو کچھ مقدر میں ہوتا ہے وہی ہوتا ہے، نہ وہاں جانے سے کچھ ہوتا ہے نہ بھاگنے میں فائدہ پہنچتا ہے توایسے کو وہاں جانا بھی جائز ہے، نکلنے میں بھی حرج نہیں کہ اس کو بھاگنا نہیں کہا جائے گا اور حدیث میں مطلقاً نکلنے کی ممانعت نہیں بلکہ بھاگنے کی ممانعت ہے۔ (۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)… طاعون کے متعلق مزید تفصیلات جاننے کے لیے فتاویٰ رضویہ ، جلد ۲۴، صفحہ ۲۰۴ کا مطالعہ مفید ہے۔ 
(۲)…بھارِ شریعت، ج ۳، ص۶۵۸