کر دیکھیں معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے بارگاہِ رسالت سے عطا ہونے والے احادیث مبارکہ کے عظیم خزانےکو اُمّت تک پہنچانے کے لئے اپنے شب و روز صرف کر دیئے۔ جب کسی مسئلے میں ہمیں شرعی رہنمائی درکار ہوتی ہے اور وہاں کوئی حدیث مبارکہ ہمیں سہارہ دیتی ہے توبے ساختہ اس کے راوی صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کےلئے دل میں تشکر کے جذبات اُبھر آتے ہیں اور دعائیہ کلمات زبان پر کچھ یوں جاری ہو جاتے ہیں : ’’اللہ1 انہیں ہمیشہ تروتازہ رکھے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا اس حوالے سے اُمّت پر بہت بڑا احسان ہے کہ کئی احادیث مبارکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ذریعے ا س اُمّت تک پہنچی ہیں۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی چاراحادیث ملاحظہ کیجئے:
(1) …طاعون زَدہ علاقہ:
حضرتِ سیِّدُنا عبدالرّحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:’’ جب کسی علاقہ میں (طاعون کی) وبا آ جائے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر تم پہلے سے وہاں موجود ہوتو اب وہاں سے مت نکلو۔‘‘(۱)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(۱)…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد الرحمن بن عوف، الحدیث: ۱۶۶۶، ج ۱،ص ۴۰۷