سوئے مدینۃ الاولیاء (ملتان)روانہ ہو ا۔ اسلامی بھائیوں کے ترغیب دلانے پر میں بھی اس قافلہ میں شامل ہوگیا۔ جب ہمارا قافلہ اجتماع گاہ پہنچا تووہاں اسلامی بھائیوں کاٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ کر میری آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئی، سنّتوں کے عامل عاشقان رسول کو دیکھ کر سنّتوں بھری زندگی بسرکرنے کا ارادہ کرلیا، اسی اجتماعِ پاک میں شرکت کی برکت سے نہ صرف میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہو کر سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ میں داخل ہوا بلکہ اپنے سر پر سبز سبز عمامہ شریف کاتاج اور چہرے کو داڑھی شریف کے نور سے منور کرلیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تادم تحریر حلقہ مشاورت کا خادم (نگران)ہونے کی حیثیت سے مدنی کاموں میں اپنا حصہ ملانے کی کوشش کررہاہوں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{11}عاجزی کی دولت مل گئی
عطاروالا(بورے والا)کے رہائشی اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے کہ دعوت اسلامی کے سنّتوں بھرے گلشن سے وابستگی سے قبل میری عملی حالت بڑی ابتر تھی، علمِ دین کے زیور سے آراستہ نہ ہونے کے باعث بے عملی کے صحراؤں