لوٹنے کو ملے گا ۔ میں تو پہلے ہی ان کے کردار سے متأثرتھا لہٰذاان کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اعتکاف میں بیٹھنے کا ارادہ کرلیا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے نفس وشیطان کے مکروفریب سے بچایا اور میں رمضان المبارک کے نور والے مہینے میں اجتماعی اعتکاف میں بیٹھ گیا۔ عاشقانِ رسول کی صحبت ملتے ہی میرے دل دماغ پر چھا یا گناہوں کا گر د دور ہوگیا اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ واقعی دعوتِ اسلامی والے حقیقی عاشق اہل بیبت وصحابہ ہیں جوتمام صحابہ ،اہل بیت اور اولیاء سے محبت وعقیدت رکھتے ہیں اور ان کے ادب واحترام کا درس دیتے ہیں ، مزید دوران اعتکاف جوں جوں سنّتوں بھرے بیانات سنتا گیا مجھے اپنے سابقہ عقائد سے نفرت ہو تی گئی۔ چنانچہ میں نے بدمذہبوں سے تعلق توڑنے اور عاشقان رسول سے رشتہ جوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ الغرض عاشقانِ رسول کی صحبت میں گزرے کچھ ایام میری زیست کا حاصل ثابت ہوئے اور میں نے گستاخانہ عقائد سے توبہ کرلی، داڑھی شریف سے چہرہ مزین کرلیا اور سرپر سبزسبز عمامہ شریف کا تاج سجانے کے ساتھ ساتھ مدنی حلیہ بھی اپنالیا۔ اس سنتوں بھرے اجتماعی اعتکاف میں جہاں مجھے غلط عقائد سے توبہ کی سعادت ملی وہیں علمی حلقوں میں وضو،غسل،تیمم اور نماز کے فرائض وواجبات کے علاوہ دیگرسنن ومستحبات سیکھنے کا موقع ملا۔ مزید سجدوں کی ایسی حلاوت ملی کہ میں فرض عبادت کے ساتھ ساتھ نفلی عبادت سے بھی اپنا