اور نہ ہی اس کی مدد سے اچھے کاموں پر مدد ملتی ہے۔(1)
لقمۂ حلال میں برکت ہے:
حضرت سیّدنا ابو سعیدخدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے حلال مال کمایاپھر اسے خود کھایا یا اس کمائی سے لباس پہنا اور اپنے علاوہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی دیگر مخلو ق (جیسے اپنے اہل و عیال اور دیگر لوگوں ) کو کھلا یا اور پہنا یا تو اس کا یہ عمل اس کے لئے برکت و پاکیزگی ہے ۔(2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں ہمیشہ حلال روزی کمانا، کھانا اور کِھلانا چاہیےاور لقمہ حلال کی تو کیا ہی بات ہے چُنانچِہ حضرت سیِّدُنا اِمام محمد غَزَالیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قَول نَقل کرتے ہیں:” مسلمان جب حَلال کھانے کا پہلا لُقْمہ کھاتا ہے ، اُس کے پچھلے گُناہ مُعاف کردئیے جاتے ہیں۔اور جو شخص طَلَبِ حلال کیلئے رُسوائی کے مقام پر جاتا ہے اُس کے گناہ دَرَخت کے پتّوں کی طرح جَھڑتے ہیں۔“(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الجامع فی الحث علی حفظ العلم،ص۹۵
2 … الاحسان بترتیب ابن حبان، کتاب الرضاع، باب النفقۃ، ذکر کتبۃ اللہ جلّ وعلا الصدقۃ للمنفق۔۔۔ الخ،الجزء:۶، ۴/۲۱۸، حدیث: ۴۲۲۲
3 … احیاء العلوم،کتاب الحلال و الحرام،الباب الاول فی فضیلۃ الحلال۔۔۔الخ،۲/۱۱۶