Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
90 - 195
﴿5﴾ حضرت سیّدنا وکیعرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک موقعے پر فرمایا:گناہ چھوڑ کر قوتِ حافظہ پر مدد حاصل کرو۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے معاشرے میں گناہوں کا ایسا دَور دَوْرَہ ہے کہ نیک صحبت نہ ملنے کی وجہ سے بسا اوقات نیکیوں پر استقامت نہیں ملتی، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّدورِ حاضر میں دعوتِ اسلامی کا مدَنی ماحول کسی نعمت سے کم نہیں جہاں گناہوں کی عادت چھوٹ جاتی ہے ، نیکیا ں کرنے کی توفیق ملتی ہےاورسب سے بڑھ کر  استقامت نصیب ہوتی ہے۔ آپ بھی مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے اور مدَنی ماحو ل میں ہونے والےسنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت، مدنی انعامات پر عمل اور مدنی قافلوں میں سفرکو اپنا معمول بنا لیجیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنیک بننےاور گناہوں سے نفرت کرنے  کا ذہن بنے گا اور اس کی برکت سے حافظہ بھی مضبوط ہوگا۔
 (۴)صرف رزقِ حلال پر انحصار کیجئے:
رِزقِ حلال سے پرورش پانے والا ذہن وسیع ہوتا ہے اور پرسکون رہتا ہے،جبکہ کسبِ حرام سےقوتِ قلب اور قوتِ نظر دونوں بُری طرح متأثر ہوتے ہیں،بدن اور قوتِ حافظہ میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے،نہ حرام رزق میں برکت ہوتی ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
 … روضۃ العقلاءلابن حبان،ص۳۹