﴿1﴾ صحابیٔ رسول حضرت سیّدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :میں سمجھتا ہوں کہ بندہ گناہوں کی عادت اپنانے کی وجہ سے نسیانِ علم(یعنی علم بھول جانے ) کا شکار ہوتا ہے۔(1)
﴿2﴾حضرت سیّدنا یحییٰ بن یحییٰرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیّدناامام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں سوال کیا:قوتِ حافظہ کے لیے مفید ترین چیز کیا ہے؟ ارشاد فرمایا:اے ابو عبداللہ !قوتِ حافظہ کے لیے سب سے مفید ترین ترک ِگنا ہ ہے۔(2)
﴿3﴾حضرت سیّدنابشر بن حارث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :اگر علم کو ذہن نشین کرنا چاہتے ہو تو گناہ چھوڑ دو۔(3)
﴿4﴾حضرت سیّدنا علی بن خشرم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیّدنا وکیع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں عرض کی :اے ابو سفیان !قوتِ حافظہ کے لیے آپ کس چیز کو مفید ترین سمجھتے ہیں؟ارشاد فرمایا:ترکِ گنا ہ قوتِ حافظہ کا بہترین معاون ہے۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… اقتضاء العلم العمل للخطیب،با ب فی التغلیظ علی ترک العمل بالعلم، ص۶۱، رقم:۹۶
2 … الجامع فی الحث علی حفظ العلم،ص۸۹
3 … الجامع فی الحث علی حفظ العلم،ص۹۰
4 … الجامع فی الحث علی حفظ العلم،ص۹۰