گفتگو ہوتی ہے؟حضرت ابراہیم بن یحییٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی:ہم جب بھی آپ کا نام لیتے ہیں تو آپ کے خلاف کوئی ایک جملہ بھی نہیں کہتے۔“یہ سن کرآپ خاموش رہے پھر حضرت سیّدنا ابر اہیم بن یحییٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جانب متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا:لو گوں کو ان کی نیت کے مطابق ہی(اجر)دیاجاتاہے۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی بھی چیز کو یاد کرنے سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی عادت بنائیے، اس سے دنیا و آخرت میں کامیابی پانے کا جذبہ جتنا زیادہ ابھرے گا یاد کرنے میں اتنا ہی دل لگے گا۔مختلف کاموں میں اچھی اچھی نیتیں بڑھانے کے لیے شیخِ طریقت ،امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسالے’’ثواب بڑھانے کے نسخے‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔
(۲)گناہوں سے دور رہئے:
جس طرح نیکی حافظے کے لیے تقویت کاباعث بنتی ہے اسی طرح گناہ حافظے کو کمزورکرنے کا سب سے بڑا سبب ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے گناہوں کو قوتِ حافظہ کے لیے مہلک ترین مرض اور ترکِ گناہ کونسیان کا سب سے مجرب اور بہترین علاج قرار دیا ہےاس کے متعلق اللہ والوں کے اقوال ملاحظہ فرمائیے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الجامع لاخلاق الراوی و آداب السامع،ذکر الاسباب التی یستعان۔۔۔الخ،ص۴۵۵