ساتھ منسلک کردیں‘‘عموماً جو علم ہمیں حاصل ہوتا ہے اس کا تعلق کسی نہ کسی طرح ہماری سابقہ معلومات کے ساتھ ضرور ہوتا ہے، لہٰذا ہمیں اپنی سابقہ معلومات کواس نئی معلومات کے ساتھ جدید بنیادوں پراُستوار کرنا چاہئے، اس سے جہاں ہمارے علم میں اضافہ ہوگا وہیں یادداشت میں اسے برقرار رکھنےکا ذریعہ بھی بن جائے گا۔
پہلی صورت پر عمل کرنے کی بدولت ہمارے دماغ کا پہلا حصہ اپنا پورا کام صحیح انجام دےگا اور ساری معلومات کو شارٹ ٹرم میموری کے حصے میں منتقل کردے گا، دوسری صورت پر عمل کرنے کی وجہ سے معلومات کا یہ ذخیرہ لانگ ٹرم میموری کے حصے میں چلا جائے گا جبکہ تیسری صورت عمل میں لانے کی وجہ سے اس علم کو دوام نصیب ہوگا اور بھول کے خطرے کا خاتمہ ہوگا۔
ایک عملی مشق:
مثلاً آپ کی کسی سےملاقات ہوئی ،آپ نے اس کا نام پوچھا ،اس نے بتایا:میرا نام ”نعمان “ ہے۔اس کا دل خوش کرنے اور بزرگوں کا ذکرخیر کرنے کی نیت سے آپ اس کا نام لے کر کہیے:”نعمان بھائی !آپ کا نام تو بہت اچھا ہےہمارے امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا نام بھی ”نعمان“تھا۔“پھر جب کبھی اس سے ملاقات ہو تو اس کا نام لے کر پکارئیےیوں اس کا نام ہمیشہ کے لیے یاد