واقعات منارۂ نور ہیں۔عزم وحوصلہ،جرات وبہادری ،محنت و مشقت کی عادت، مقصد پر نظر ہونے کے ساتھ ساتھ ان تمام واقعات میں سب سے زیادہ مشترک (ایک جیسی )بات زہد و تقویٰ ہے ،یقیناًتقویٰ وپرہیزگاری اپنانے کی برکت سے قوتِ حافظہ مضبوط ہوتا ہےاورعلم کا نور ذہن تک پہنچ کر محفو ظ ہوتا رہتا ہے۔ کامیاب ترین افراد کی سیرت پڑھ کر ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ” کامیابی میرے قدم چومے “اور حافظے کی مضبوطی شاہراہِ کامیابی پر گامزن ہونے کے لیے سب سے اہم ترین اور بنیادی قوت ہے۔اسلاف کے ان واقعات کو پڑھ کر یقینا ً آپ کے دل میں بھی قوت حافظہ بڑھانے کی خواہش جاگ اٹھی ہوگی ،لہذا اس نیک خواہش کی تکمیل کے لیے اگلا باب ”حافظہ کیسے قوی ہوسکتا ہے؟“کا مطالعہ کیجیے، ان سے حاصل ہونے والے مدنی پھولوں کو اپنی زندگی میں نافذ کیجیے ،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّآپ خود تیز ترین قوتِ حافظہ پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
باب ۲:حافظہ کیسےقوی ہوسکتا ہے؟
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!حافظے کی اہمیت سمجھنے اور بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین کی سیرت سےعزم وحوصلہ پانے کے بعد یقیناً آپ بھی چاہیں گے کہ آپ کی بھی یاد داشت تیز ترین ہو،جو آپ یاد کرلیں وہ کبھی بھی ذہن سے نہ نکلےاور ضرورت پڑنے پر ذہن میں محفوظ معلوما ت کو استعمال کرکے کامیاب افراد