کے آگے حافظ لکھ دیا کرتے ہیں ان کا)کہنا غلَط ثابت نہ ہو۔(1)
(۳۵)خلیفہ اعلیٰ حضرت کا حافظہ :
اعلیٰ حضرت،عظیم البرکت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کےنامور خلیفہ مُفَسِّرِ قراٰن، صَدْرُالاَفَاضل سیّد محمد نعیم الدین مراد آبادیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے چنانچہ شیخِ طریقت ،امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی ان صلاحیتوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:صدر الافاضل کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بہترین مقرر ،باعمل مبلغ،منجھے ہوئے مفتی اور پُر اثر مصنف کے ساتھ ساتھ قابل ترین مُدَرِّس (یعنی استاد) بھی تھے۔علم حدیث میں تو آپ مشہور عام و خاص تھے۔بڑے بڑے علماء کر ام اس بات کا اعتراف کیا کرتے تھے کہ جس طرح حدیث کی تعلیم آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دیتے ہیں ان کے کانوں نے کبھی اور کہیں اس کی سماعت نہیں کی۔اس جامعیت سے مختصر الفاظ بیان فرماتے تھے کہ مفہوم ذہن کی گہرائیوں میں اترجاتاتھا۔فنون ِعقلیہ کی کتابوں کی پُر مغزمَدَلَّلْ (یعنی دلائل سے بھر پور) تقاریرزبانی یاد کیا کرتے تھے ۔درس کے وقت اپنے سامنےفنون عقلیہ کی کتا ب نہ رکھتے تھے۔طلبہ جب عبارت پڑھ چکتے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کتاب پر تقریر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… حیاتِ اعلیٰ حضرت، ۱/ ۲۰۸