سورتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےانتہائی حیرت سے فرمایا :”بس ایک مرتبہ دیکھ لینا کافی ہوگیا؟“اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:’’اللہ تعَالٰی کے فضل و کرم سے امید ہے کہ دوتین مہینہ تک تو جہاں کی عبارت کی ضرورت ہوگی ،فتاویٰ میں لکھ دوں گااور مضمون تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عمر بھر کے لیے محفوظ ہوگیا۔“(1)
(۳۳)باب الاسلام سندھ کے آٹھ علماء کےنام بتادیے:
اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنکے فتاویٰ جات کا مجموعہ’’فتاوی رضویہ‘‘(مَخرَّجہ)جو33 جلدوں پر مشتمل ہےاس کے ایک جواب سے بھی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کےقوتِ حافظہ کا پتہ چلتا ہے۔سوال اس طرح ہے:مولانا المعظم وبرادر محترم مولانا مصطفے ٰرضاخاں صاحب اَرْفَعَ اﷲُ شَانَہُم، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَۃُﷲ وَبَرَکَاتُہ:کالج کاایک کام آگیا ہے جس میں ضرورت ہے چنداَسماء (نام)ان علمائے کرام کے لکھے جانے کی، جو (باب الاسلام) سندھ کے تھے یا(باب الاسلام)سندھ میں آئے کم ازکم پانچ نام ہوناچاہئے۔ انساب سمعانی میں بعض اسماء ملے لیکن صرف نام، اس کی خبرنہ ملی کہ انہوں نے کیاخدمت انجام دی۔ طبقات ِحنفیہ کی فہرست میں کوئی نام نہ ملا۔ آنجناب براہ ِکرم اعلیٰ حضرت سے اِسْتِفْسَارفرمائیں۔ متقدمین یامتأخرین علماء اہلسنت، محدثین میں ہوں یافقہاء میں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… حیات اعلی حضرت،۱/۲۱۳ماخوذاً