Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
72 - 195
حضرت(ہند کے ایک علاقے)پیلی بھیت میں حضرت وصی احمد (محدِّثِ) سورتیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے گھر مہمان تھے،ایک دن دوران گفتگو  فقہ کی کتاب ”عُقُوْدُ الدُّرِیَّۃ  فِیْ تَنْقِیْحِ الْفَتَاوَی الْحَامِدِیَّۃ“کا ذکر ہوا،یہ کتا ب محدث ِ سورتی کی لائبریر ی میں موجود تھی ،کتاب کا نام سنتےہی اعلیٰ حضرت نے فرمایا:’’میں نے(یہ کتاب) نہیں دیکھی،(بریلی واپس )جاتے ہوئے یہ کتا ب میرے ساتھ کردیجئے گا۔“حضرت محدث ِسورتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے بخوشی قبول کیا اور کتاب لاکر اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو پیش کردی مگر ساتھ میں یہ بھی فرمایا:جب ملاحظہ فرمالیں تو بھیج دیجئے گا،اس لیے کہ آپ کے یہاں تو بہت کتابیں ہیں میرے پاس یہی گنتی کی چند کتابیں ہیں جن سے میں فتا وی دیا کرتاہوں۔“اعلیٰ حضرت نے اسے قبول فرما لیا،آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی اسی دن بریلی روانگی تھی مگرایک جاں نثار مرید کی دعوت کی وجہ سے ایک دن مزید قیام کرنا پڑا۔رات میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ” عُقُوْدُ الدُّرِیَّۃ “ کا مطالعہ فرمایاجب دوسرے دن بریلی واپس جانے کا وقت آیا تو  آ پ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے محدث سورتی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو یہ کتاب واپس فرمادی اور ارشاد فرمایا:”قصد (ارادہ تو)بریلی لے جانے کا تھااور اگر کل ہی جاتا تو اس کتاب کو ساتھ لیتا جاتا ۔لیکن جب کل جانا نہ ہوا تو شب میں اور صبح کے وقت پو ری کتا ب دیکھ لی اب لے جانے کی ضرورت نہ رہی۔“حضرت محدثِ