کچھوچھویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی ہیں ،آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے قوی حافظے کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: تکمیلِ جواب (جواب مکمل کرنے)کے لیے جُزئِیّاتِ فِقْہ (یعنی فقہ کی کتابوں سے مسٔلوں کے جوابات)کی تلاشی میں جو لوگ تھک جاتے وہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتکی خدمت میں عَرض کرتے اور حوالہ جات طلب کرتے تو اُسی وقت آپ فرمادیتے کہ ”رَدُّالمُحْتَار“جلد فُلاں کے فُلاں صَفَحہ پر فُلاں سَطر (لائن)میں اِن الفاظ کے ساتھ جُزئِیّہ موجود ہے۔”دُرِّ مُخْتَار“ کے فُلاں صَفَحے پر فُلاں سَطر میں عبارت یہ ہے۔ ”عالمگیری“میں بقید(بَ۔قَید یعنی کسی قید کے ساتھ) جلد و صَفَحہ وَسَطر یہ الفاظ موجود ہیں۔ ’’ہِندیہ‘‘ میں” خَیریہ “میں”مبْسُوط“میں(فقہ کی مختلف کتابوں کے نام بتاکر) ایک ایک کتاب فِقہ کی اصل عبارت مع صَفَحہ وسَطر بتادیتے اور جب کتابوں میں دیکھا جاتا تو وُہی صَفَحہ وسَطر و عبارت پاتے جو زَبانِ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے فرمایا تھا۔ (1)
(۳۲)ايك رات میں دوجلدیں حافظے میں محفوظ کرلیں:
خلیفۂ اعلیٰ حضرتحضرت مولاناظفر الدین بہاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے قوتِ حافظہ کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:اعلیٰ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… حیاتِ اعلیٰ حضرت ، ۱/۲۱۰بتصرف