انداز ِروایت تو یہی ہے ۔اوراگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ علم ُالاَنْسَاب بیان فرمائیں تو زبان پر یہ جملے بے ساختہ جاری ہوجائیں کہ احسن انداز میں بیان کرنا تو آپ ہی کاحصہ ہے اور اگر قراٰن و حدیث کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں توآپ کی گفتگو جامع ترین اورنئےگوشوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ (1)
(۲۹)تمام جوابات یاد ہیں؟
حضرت سیّدنا قتا دہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو جب علم ِدین حاصل کرنےکا شوق پیدا ہواتو آپ جلیل القد ر تابعی حضرت سیّدنا سعید بن مسیبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں جا پہنچے اور علمِ دین کے انمول موتی چننے میں مصروف ہوگئے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کثرت سے حضرت سیّدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے سوال کیا کرتےتھےاور دن بہ دن آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سوالات بڑھتے جارہے تھے، ایک دن حضرت سیّدنا سعید بن مسیبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے آپ کا امتحان لینے کے لیے پوچھا:” جتنے سوالات آپ کرچکے ہیں کیا ان سب کے جوابات آپ کویاد بھی ہیں؟“آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی:جی ہاں مجھے وہ سب یاد ہیں۔پھر حضرت سیّدناقتادہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان تمام سوالات کے جوابات دہرادیے، حضرت سیّدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا :”
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… البدایۃ والنھایۃ، ثم دخلت سنۃ اربع و عشرین و مائۃ،۶/۴۹۱