پُرسکون کیسے رہ سکتا ہوں ؟(1)
(۲۶)اچانک امتحان میں امتیازی کامیابی :
حضرت سیّدنا ابو کریب محمد بن علاءہمدانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکا شمار اکابر (بڑے)محدثینِ کرام میں ہوتا ہے ، علمِ حدیث میں امتیازی مقام رکھنے کی وجہ سے آپ کو شیخ المحدثین بھی کہا جاتا ہے۔ایک روزعاشقانِ حدیث آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے گھر کے پاس جمع ہوگئے اور اکتسابِ علمِ حدیث کے لئے گھر میں داخلے کی اجازت مانگنے لگے ،جب حضرت سیّدنا ابو کریب ہمدانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے گھر کی کھڑکی سےانہیں ملاحظہ فرمایا تو ان کے ذوق و شوق کو جانچنے کے لئے ارشاد فرمایا: تم میں سے کس کس کو میری لکھوائی ہوئی احادیث یا د ہیں؟یہ سنتے ہی تمام افراد کی نظریں حضرت سیّدنا ابن جریر طبری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر ٹھہر گئیں ،جب آپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو حضرت سیّدنا ابو کریب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی لکھوائی ہوئی احادیث یاد ہیں ؟تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اثبات میں جواب دیا اورپھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس طرح حدیث بیان فرمائی :فلاں دن آپ نے ہمیں یہ حدیث سنائی تھی ،فلاں دن وہ حدیث سنائی تھی۔الغرض دنوں کی تعیین کے ساتھ آپ نے تمام حدیثیں بیان فرمادیں ،حضرت سیّدنا ابن جریر طبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الجامع فی الحث علی حفظ العلم،محمد بن القاسم ابو بکر الانباری،ص۳۰۱