Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
66 - 195
اِسْتِشْہَاد پیش کرتےآئے ہیں، تین  لاکھ اشعار کا یاد ہونا کوئی عام بات نہیں تھی حضرت سیّدنا ابو بکر انباریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوایسے تین لاکھ اشعار یاد تھےجو معانیِ قراٰن کے مُؤَیِّد(تائید کرنے  والے) تھے ۔   
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے حافظے کے متعلق یہ بھی ملتا ہے کہ آپ کو ایک سو بیس (120)تفاسیر سندوں کے ساتھ حفظ تھیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بے پناہ قوتِ حافظہ سے نوازا تھااور آپ کے حافظے کے حیرت انگیز واقعات سن کرہر ایک متأثر ہوتا تھا۔حضرت سیّدنا ابوالعباس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آپ کے حافظے کے متعلق فرماتے تھے:حضرت سیّدنا ابو بکر انباری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کاقوت حافظہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔(1)
(۲۵)ذہین بیٹے کی بیماری  پروالد صاحب کی بے چینی :
حضرت سیّدنا ابو بکرانباری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والدِ محترم بھی آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خداداد حافظے کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔ایک بارآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیمار ہوگئے تو آپ کے والد بے حد پریشان ہوئے۔ کسی نے اس بے چینی کی وجہ معلوم کی تو  کتابوں سے بھری  الماریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ان الماریوں میں موجود کتابیں جس کے سینے میں محفوظ ہوں میں اس کی بیماری پر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … طبقات الحنابلۃ،۲/۷۱،رقم:۶۰۴