(۲۲)قوتِ حافظہ کی حفاظت اورکانوں کا قُفلِ مدینہ
حضرت سیّدنا ابو زرعہ عبید اللہ بن عبد الکریم رازیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:علم کی جو بھی بات میرے کان سن لیتے ہیں مجھے اچھی طرح یاد ہوجاتی ہے ،اسی لئےبغداد کے بازار میں جب بھی جاتاہوں جیسے ہی موسیقی کی آواز میرے کانوں میں پڑتی ہے تو میں اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتا ہوں کہیں یہ گانے مجھے حفظ نہ ہو جائیں۔ (1)
(۲۳)اگر یہ بات ہے توذرا سناؤ؟
حضرت سیّدنا عبد اللہ بن مبارکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جن کا شمار امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےشاگردوں میں ہوتا ہےا ن کے ایک دوست صخر بیان فرماتے ہیں: بچپن میں ہم دونوں کسی مقام سے گزر رہے تھے،قریب ہی ایک بزرگ کسی موضوع پربیان فرمارہے تھے ، ہم دونوں بھی شریک ہوگئے،انہوں نے کافی طویل بیا ن فرمایا لیکن جب بیان ختم ہواتو حضرت سیّدنا عبد اللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:مجھے پورا بیان یاد ہوچکا ہے،آپ کی یہ بات سن کر وہاں موجود ایک شخص نے کہا :’’اگر یہ بات ہے توذرا سناؤ“،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تاریخ بغداد ،عبیداللہ بن عبد الکریم ۔۔۔الخ،۱۰/۳۳۰