حضرت سیّدناامام ترمذی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے سنانے کا ارشاد فرمایاتو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بغیر کسی غلطی کے وہ چالیس کی چالیس حدیثیں سنادیں۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیّدنا امام ترمذی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی سیرتِ مبارکہ سے جہاں آپ کے قوی حافظے کا پتہ چلتا ہے وہیں یہ مدَنی پھول بھی ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اساتذہ کا بے حدادب واحترام کرنا چاہئے اور ان کی چاہت اور مرضی کے خلاف کام سے گریز کرنا چاہئے، مشہور مقولہ ہے’’باادب بانصیب بے ادب بے نصیب‘‘جو اپنے اساتذہ کا ادب کرتا ہے اور ان کی چاہت کو پورا کرتا ہےوہ کامیابی کی منزلیں طے کرتا ہے اور جو ان کا دِل دکھاتا ہے، ان کی غیبت کرتا ، ان کی بیٹھنے کی جگہ کی بےادبی کرتا یا بلاوجہ ان سے بغض رکھتا ہےوہ نہ صرف علم کی مٹھاس سے محروم رہتا ہےبلکہ اسے ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑتاہے۔ہمارے بڑے بڑے اَئمہ و فقہاء جن کا چہار سو شہرہ ہے،جن کا کلام بطورِ دلیل پیش کیا جاتا ہےاور جن کا نام بہت احترام سے لیا جاتا ہےان کی سیرت میں استاد کے ادب کا پہلو بہت نمایاں نظر آتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنے استادو ں کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تذکرۃ الحفاظ،الطبقۃ العاشرۃ، الترمذی الاما م الحافظ۔۔۔الخ، ۲/۱۵۵