تلاش کیں تو نہ ملیں۔ اب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو استاد صاحب کی ناراضگی اور احادیثِ کریمہ کی دہرائی کا انمول موقع ہاتھ سے جانے کا خوف لاحق ہوا لہٰذا چند سفید کاغذ لیے اور استاد صاحب کی بارگا ہ میں حاضر ہوگئے ،استا د صاحب حدیث پاک بیان کرتے جاتے اور امام ترمذی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اپنی یادداشت میں ان احادیث کی تصحیح محفوظ کرتے جاتے ،سلسلہ یوں ہی جاری رہا کہ اسی دوران اچانک استاد صاحب کی نظر آپ کے ہاتھ میں موجود خالی سفید کاغذوں پرپڑی ، یہ دیکھ کراستاد صاحب نے ناراضگی کا اظہار فرمایا،امام ترمذی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے دونوں جلدوں کے کھوجانے کااستاد صاحب کو بتا یا اور یہ بھی عرض کی کہ ابھی تک جو احادیث آپ نے بیان کی ہیں وہ سب میرے حافظے میں محفوظ ہیں۔استاد صاحب نے آپ کا امتحان لینے کے لیے احادیث بیان کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے الفاظ کی کمی بیشی کے بغیر و ہ تمام احادیث سنادیں،استاد صاحب سمجھے کہ آپ کو پہلے ہی سے حدیثیں حفظ تھیں تبھی آپ نے فور اً سنا دیں ساتھ ہی آپ سے اس بات کا اظہار بھی فرمادیا ، حضرت سیّدناامام ترمذی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے استاد صاحب کو مطمئن کرنے لیے ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو امتحان کے لیے پیش کیا اور انتہائی عاجزی کے ساتھ عرض کی :آپ اس کے علاوہ مزید احادیثِ مبارکہ بیان کرکے دیکھ لیں۔لہذا استاد صاحب نےمزید چالیس حدیثیں بیان فرمائیں اور