سیّدنا خلیل نحوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ’’ اس دوا کا کوئی نسخہ معروف ہے؟“لوگوں نےعرض کی :جی نہیں،پھرآپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے پوچھا:کیاوہ برتن موجود ہے جس میں وہ دوابنایا کرتا تھا ؟،لوگوں نے کہا:جی ہاں ،وہ موجو د ہے۔پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے وہ بر تن منگوایااور اسے سونگھنے لگے،یوں آپ نے سونگھ سونگھ کر اس دوا کے پندرہ اجزاءمعلوم کرلیے اور ان اجزاء کو منگواکر دوائی تیار کی،جب لوگوں نے اس دوا کو استعمال کیاتو انہیں اسی طرح فائد ہ ہوا جس طرح پہلے ہوتا تھا۔پھرکچھ عرصے بعد اس طبیب کا نسخہ تحریری صورت میں مل گیا ،جب اس نسخے کو حضرت سیّدنا خلیل نحوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے نسخے سےملایا گیا تویہ بات سامنے آئی کہ طبیب 16 اجزاء سے یہ نسخہ بنایا کرتا تھا اورموجودہ دوا میں سوائے ایک جز کے باقی پندرہ اجزاء بالکل موافق تھے۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بلاشبہ یہ ان کی قوتِ شامَّہ(سونگھنے کی صلاحیت)اورقوتِ حافظہ کاہی نتیجہ تھا جس کی بنا پر انہوں نے اس دوا کےاجزائے ترکیبیہ معلوم کرلئے ،کیونکہ کسی بھی چیز کو محض سونگھ کر اس کے بارے میں وہی بتا سکتا ہےجس کے ذہن میں پہلے سے اس چیزکا مکمل علم ہو اور وہ اس کی حقیقت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بغیۃ الوعاۃ، الخلیل بن احمد۔۔الخ،۱/۵۵۹،رقم:۱۱۷۲