ہوکرعاشقانِ رسو ل کے ہمراہ سنّت کی شاہراہ پر گامزن ہوجائیے۔
(۲۰)قوت ِحافظہ کی بدولت امت کی خیر خواہی:
عربی زبان کی گرامر سیکھنے میں جن دو بنیادی علوم کا سہارا لیا جاتا ہےوہ ’’صَرْف‘‘ اور ’’نَحْو‘‘ہیں،علمِ نحْو میں امام کادرجہ پانے والے حضرت سیّدنا خلیل نحوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نہایت عبادت گزار اور عاجزی و انکساری کے پیکر تھے۔ حضرت سیّدنا خلیل نحوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو دنیوی لذّات میں کوئی رغبت نہ تھی،صبروقناعت جیسی عظیم خوبیاں آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ میں پائی جاتی تھیں،چنانچہ منقول ہےکہ حاکمِ وقت نےاپنے بچوں کی تربیت کے لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگا ہ میں اپنا ایک قاصد بھیجا،قاصد نے جب حاکمِ وقت کی عرض آپ کی بارگا ہ میں پیش کی تو آپ نے خشک روٹی نکالی اور قاصد کو دکھا کر فرمایا: جب تک یہ روٹی کا ٹکڑا مُیَسَّر ہے،مجھے سلیمان (حاکم ِوقت)سے کوئی حاجت نہیں۔“(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو بے مثال حافظہ بھی عطا فرمایا تھا چنانچہ ایک طبیب آنکھ کی بیماری کے لیے کوئی خاص دوا دیا کرتا تھا جس سے وگوں کوجلد شفا مل جاتی تھی ۔جب اس طبیب کا انتقال ہوگیا تو لوگوں کوبڑی پریشانی ہوئی کیونکہ وہ طبیب کسی خاص طریقے سے دوا بناتاتھااور کسی دوسرے کو اس کا علم نہ تھا، جب حضرت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بغیۃ الوعاۃ، الخلیل بن احمد۔۔۔الخ،۱/۵۵۸ ،رقم:۱۱۷۲