ستر ہزار (70،000)احادیثِ مبارکہ اس طرح یاد ہیں کہ گویا وہ میرے پیش نظر ہیں۔(1)
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سےملنے والی مضبوط قوتِ حافظہ کی عظیم نعمت کو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بھی علمِ دین کی خدمت میں صَرف فرمایا اور یوں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہرخاص و عام میں مقبول ہوگئے۔جب کبھی آپ کا ذکرِ خیر ہوتا کوئی آپ کی صلاحیت کا اعتراف کرتاتو کوئی رشک کا اظہار کرتاجیسا کہ حضرت سیّدنا یحییٰ بن یحییٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےحضرت سیّدنا اسحاق بن راہویہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زندگی کے ایک دن کو اپنی تمام عمر سے زیاد ہ محبو ب جانااور امام محمد بن عبد الوہاب فراء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی فقاہت اور علم کو بے مثال قرار دیا ۔(2)
یہ حقیقت ہے کہ جس نے بھی دینِ اسلام کی خدمت اور ترویج و اشاعت کے لئے کوششیں کی ہیں وہ دنیا میں تو سرخرو ہوا ہے ،آخرت میں بھی اس کے لئے جنت کا وعدہ ہے۔
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے اسلاف زندگی بھر حصولِ علمِ دین
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… المنتظم ،ثم دخلت ثمان و ثلاثین و مائتین،۱۱/۲۶۰
2 … سیر اعلام النبلاء،اسحاق بن راهویہ ۔۔۔الخ،۹/۵۵۳