ہوجائے گا کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہی درست ہے۔“جب امیرعبداللہ نے کتاب کا یہ مقام دیکھا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی بات کو درست پایا، اس پر وہ بے حد حیران ہوکر کہنے لگا:”میں آپ کے عظیم الشان حافظے کا تو پہلے ہی مُعْتَرِف تھا لیکن اس سے زیادہ مجھے آ پ کے اس مشاہدے پر حیرت ہے ۔“(1)
امیر عبد اللہ بن طاہر نے ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اس قوی حافظے کا سبب پوچھ ہی لیا اور کہا:مجھے پتہ چلاہے کہ آپ حافظہ مضبوط کرنےکےلیے’’ بَلاذُر‘‘ نامی شربت نوش فرماتے ہیں ؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا:”میں نے کبھی اس طرح کی چیزوں میں ذرہ برابر دلچسپی نہیں لی (یعنی یہ عطائے الہٰی ہے جس میں کسی کھانے پینے والی چیز کا کوئی عمل دخل نہیں ہے)‘‘ (2)
ہر سنی ہوئی بات یاد ہوجاتی:
ایک موقع پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے حافظے کے متعلق ارشاد فرمایا:میں جو بھی سن لیتا ہوں مجھے وہ چیزیاد ہوجاتی ہے اور میں یاد کی ہوئی کوئی بھی بات، کبھی نہیں بھولتا۔(3)یہ ہی وجہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:مجھے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تاریخ ابن عساکر،۸/۱۳۷
2 … سیراعلام النبلاء،اسحاق بن راهویہ۔۔۔الخ، ۹/۵۵۳
3 … تاریخ ابن عساکر، ۸/۱۳۸