عَزَّوَجَلَّ علم کا نور ہمارے معاشرے سے جہالت کی سیاہی کو کافور کردے گا۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِيْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(۱۹)سیّد الحفاظ کا حیرت انگیز حافظہ :
حضرت سیّدنا محمد بن اسمٰعیل بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے استاد حضرت سیّدنا اسحاق بن رَاہوَیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شمار جلیل القدْر محدثین کرام میں ہوتا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بھی حیران کُن حافظہ عطا فرمایا تھا۔ آپ کی اسی عظمت کے پیشِ نظر امام ذہبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے آپ کو شیخ المشرق (مشرق کا سب سے بڑا عالم)اور سَیّدُ الْحُفَّاظ (حافظوں کا سردار)کے لقب سےیاد فرمایا ہے۔(1)
ایک مرتبہ امیرعبد اللہ بن طاہر کے دربار میں حضرت سیّدنا امام اسحاق بن رَاہوَیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ایک عالم صاحب سے کسی علمی مسئلے میں گفتگو جاری تھی،اسی دوران ایک کتاب کی عبارت پر دونوں میں اختلاف ہوا تو حضرت سیّدنا امام اسحاق بن راہویہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے امیر عبد اللہ بن طاہر سے وہ کتا ب منگوانے کے لیے ارشاد فرمایا، جب کتاب آگئی توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے امیر سے فرمایا:’’اس کتاب کا صفحہ نمبر گیارہ اور لائن نمبر سات ملاحظہ فرمالیں آپ کو معلوم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سیر اعلام النبلاء، اسحاق بن راہویہ۔۔۔الخ،۹/۵۴۷