گزرے تھے کہ امام محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پھر حضرت سیّدناامام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی بارگاہ میں پہنچ گئے۔ امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ کو دیکھ کر فرمایا: میں نے کہا تھا کہ آپ پہلےقراٰن شریف حفظ کریں پھر آئیے گا ؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے نہایت ادب سے عرض کی: میں قراٰن پاک حفظ کرچکا ہوں۔(1)
حضرت سیّدناامام اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ کی قوتِ حافظہ دیکھ کر بے حد متأثر ہوئے اور آپ کو اپنی شاگردی میں قبول فرمالیا ، بعدازاں حضرت سیّدنا امام محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیّدنا امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی صحبت میں کئی سال رہ کرعلمی، اخلاقی اور روحانی فیضان سے مستفیض ہوتے رہے۔
(۱۸)شرعی مسائل حل کرنے کاانوکھا انداز:
حضرت سیّدناامام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی جیسے جلیل القدْر امام کا شمارحضرت سیّدنا امام محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شاگردوں میں ہوتا ہے،ایک مرتبہ امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے استاد حضرت سیّدنا امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے یہاں ایک رات قیام فرمایا،جب رات ہوئی تو امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنوافل کی ادائیگی کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں کھڑے ہوگئے جبکہ حضرت سیّدناامام محمدرَحْمَۃُ اللہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مناقب الامام الاعظم للکردری، ۲/۱۵۵