Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
50 - 195
 تھے، انہیں جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کی بیماری کا علم ہواتو عیادت کےلیے تشریف لے آئے، حضرت سیّدناامام ابویوسفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے وہاں موجود  لوگوں سے ارشاد فرمایا:ابو محمد (یہ حضرت  سفیان بن عیینہ کی کنیت ہے) سے علمِ حدیث حاصل کرو۔“چنانچہ حضرت سیّدنا سفیان بن عیینہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے چالیس احادیث ِ مبارکہ بیان فرمائیں،جب حضرت سیّدنا سفیان بن عیینہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وہاں سے تشریف لے گئے تو حضرت سیّدنااما م ابویوسف رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے لوگوں سے فرمایا:جو روایتیں  سفیان بن عیینہ (رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  )نے بیان کی ہیں وہ مجھ سے بھی سن لو،یہ فرماکر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شدید بیماری و کمزوری  اور سفر کی تھکن کے باوجود  محض اپنے حافظے کی بنیاد پر وہ چالیس کی چالیس احادیث بیان فرمادیں ۔(1) 
(۱۶)جن کے حافظےسے دوسرے بھی مستفید ہوتے:
حضرتسیّدناابومعاویہرَحْمَۃُاللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں اور امام ابویوسُف  علمِ حدیث کے لیے حضرت سیّدنا حجاج  بن ارطاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضرہوتے۔آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہمیں احادیث لکھوایا  کرتے تھے اور امام ابویوسفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان روایات کو اپنی یادداشت میں محفوظ کرتے تھے۔ پھر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … اخبار ابی حنیفۃ،اخبا رالامام  ابی یوسف وذکر نسبہ ،ص۱۰۰