کتابیں دیکھیں ہیں ،ان کی ابتدا میں جو احادیثِ مبارکہ آپ نے بیان کی ہیں ان کےراویوں کے نام مذکورنہیں ہیں اور یہ اس وجہ سے ہے کہ سیّدناامام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حدیثِ مبارکہ کا جو حصہ سن لیتے ہیں اسے اپنی یادداشت میں محفوظ فرمالیتے ہیں اور یہ میرے بس سے باہر ہے۔(1)
(۱۳)قوت حافظہ سے لوگوں کو فائدہ:
حضرت سیّدناامام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ذہن میں قراٰن و حدیث کی خوشبو رچ بس گئی تھی اسی لیے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجالس علم و حکمت کے مدنی پھولوں سے مہکا کرتیں اور آپ کی صحبت میں بیٹھنے والوں کا ذہن معطر ہوجایا کرتا تھاچنانچہ حدیث کے ایک بلند پایہ امام حضرت سیّدنا امام ابو داؤد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:حضرت سیّدنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی مجالس درحقیقت آخرت کی یاددلانے والی ہوتی تھیں ،اس میں کسی قسم کی دنیوی گفتگو نہ ہوتی،میں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو(ان مجالس کے علاوہ بھی کبھی ) دنیا کے ذکر میں مشغول نہیں پایا۔(2)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِيْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سیر اعلام النبلاء،احمد بن حنبل ،۹/۴۴۰
2 سیر اعلام النبلاء،احمد بن حنبل ،۹/۴۴۸