Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
45 - 195
 اسی صورت میں  فائد ہ دیں گے جب اس کی خوشبو ہمارے عمل سے ظاہر ہواور دیگر مسلمان اس سے مستفیض ہوں ۔ہمارے اسلاف اپنے علم پر عمل کرتے ، دن رات  قراٰنِ کریم کی تلاوت میں  بسر فرماتے اور عبادت و ریاضت کے ذریعے توشۂ آخرت اکٹھا کرتے ، ہمیں ان کی پیروی کرنی چاہئے،نیک اعما ل میں اضافے کی جستجو کے لیے امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطاکردہ مدنی انعامات پر پر عمل کرنابے حد مفید ہے اس کی برکت سے نہ صر ف نیکیوں کی تو فیق  ملے گی بلکہ ان میں اضافے کا شوق بھی پیدا ہوگا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ 
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِيْب ! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(۱۰)استاد  کی تمام باتوں کو ذہن میں محفوظ کرلیا :
حضرت سیّدنا ہُشیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیّدناامام احمد بن حنبل رَحْمَۃُاللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے پہلے استا دہیں ،امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک عرصے تك حضرت سیّدنا ہشیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صحبتِ بابرکت میں اکتساب ِعلمِ دین فرماتے رہے۔جس وقت حضرت سیّدنا ہشیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ہوااس وقت امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عمرِ مبارک بیس سال تھی اور جو کچھ آپ نے اپنے استادِ محترم سے سنا تھا وہ تمام کا تما م آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے ذہن میں محفوظ فرمالیا تھا چنا نچہ آپ خودفرماتے ہیں: جب میں بیس سال کا تھا تو حضرت