مسئلہ لکھ کر ایک تھیلی میں محفوظ کرلیتا۔“(1)
اللہ عَزَّوَجَلَّنے آپ کو بے مثال قوتِ حافظہ سے بھی نوازا تھا،شوق ، لگن اور عزمِ جواں نے حضرت سیّدنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حافظے کو چار چاند لگا دیے تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے امام مالکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے سے پہلے ہی مُؤَطَّا امام مالک (امام مالک کی تحریر کردہ احادیثِ کریمہ کا مجموعہ)حفظ فرمالی تھی اور اس وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عمر مبارک صرف بارہ سال تھی۔(2)
(۹)آسمان علم کا چمکتادمکتا ستارہ:
قوت ِحافظہ کی اس نعمتِ خداوندی کوحضرت سیّدنا اما م شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے حصولِ علم دین میں صَرف فرمایا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس محنت کی بدولت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو وہ بلندمقام و مرتبہ عطا فرمایا کہ فقہ کے چار اماموں میں آپ کا شمار ہوتاہے۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فقہ شافعی کے امام کی حیثیت سے مسلم دنیا میں جانے اور پہچانے جاتے ہیں اور کئی جلیل القدْرمُفَسِّرین و محدِّثین ،فقہ میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مُقَلِّد (یعنی پیروکار)ہیں ۔حضرت سیّدناامام شافعیرَحْمَۃُ اللہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… حلیۃ الاولیا ء،الامام الشافعی،ذکر بیان نسبہ و مولدہ ووفاتہ،۹/۸۲
2 … حلیۃ الاولیاء،الامام الشافعی،ذکربیان نسبہ و مولدہ و وفاتہ،۹/۷۸