Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
42 - 195
نے بے پناہ علم کے ساتھ عمل کی توفیق سے نواز کربلند مقام  و مرتبہ عطا فرمایا تھا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو حصولِ علمِ دین کا اس قدْر شوق تھاکہ یتیم ہوجانے  اورغربت و افلاس کے باوجود آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےراہِ علم كو اختیارفرمایااوراس راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو مستقل مزاجی کے ساتھ علمِ دین حاصل کرتے ہوئے پار کرتے  چلےگئے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے اس بلند حوصلے کی داستان خود بیان فرماتے ہیں:مکتب میں استاد صاحب کوئی بات کسی بچے کو  ذہن نشین کراتے تو میں بہت دھیان سے ان کی باتیں سنتا،یوں مجھے استاد صاحب کی بات لفظ بہ لفظ یا د ہوجاتی ، چونکہ میں یتیم تھا،میری والدہ کے پاس تعلیم دلانے کے لیے پیسے نہ تھے لیکن میں نےاستاد صاحب سے یہ طے کرلیا تھا کہ میں ان کی غیر موجودگی میں ان کے بچوں کی دیکھ بھال کروں گا ،طلبہ استاد صاحب  کی گفتگو لکھا کرتے تھے اور جب استاد صاحب اِملا کرواکے فارغ ہوتے ،تومیں لکھنے کے ساتھ ساتھ ان تمام باتوں کو یاد بھی کرچکا ہوتا تھا ۔“(1)
مزید فرماتے ہیں:”جب میں نے قراٰن کریم  حفظ کرلیا تو  مسجد میں علماء کی محافل میں حاضر ہونے لگا ،اس کی برکت سے میں حدیث ِ پاک  یا کوئی شرعی مسئلہ یاد کرلیا کرتا۔پھر لکھنے کے لیے كوئی ہڈی تلاش کرتا او ر اس  پر  حدیث شریف  یادینی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … ترتیب المدارك ،ابتداء طلبہ و حفظہ،۱/۲۲۲