Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
40 - 195
فرمایا۔ حصولِ علمِ دین کےلئے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کئی سفر اختیار فرمائے، دو مرتبہ مصر اور شام ،چارمرتبہ بصر ہ اور کئی دفعہ (عراق کے شہر)کوفہ اور بغداد بھی تشریف لے گئے۔(1)ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بلخ(خراسان کے ایک مشہور شہر)تشریف لے گئے، لوگوں نے آپ سے حدیث سنانے کی فرمائش کی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک ہزار احادیث زبانی بیان فرمادیں۔(2)
حضرت سیّدنا امام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس قد ر قوی حافظہ رکھنے اور اپنے معاصرین (یعنی اپنے زمانے کے علماء)میں بلند مقام حاصل کرنے کے باوجود دنیوی لذتوں اور عیش و عشرت سے کوسوں دور رہتے تھے۔نیک ہونے کے سبب گناہوں سے تو بچتے ہی تھے مگرشبہات (یعنی ایسی چیزیں جن کا حلال وحرام ہونا مشتبہ ہوان)سے بچنا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کواپنے والد سے وراثت  میں ملا تھا۔آپ  لوگوں کے ہجوم میں ہوتے یا تنہائی میں، ہروقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف طاری رہتا،جس طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حُقُوقُ اللہ کی ادائیگی  میں بے مثال تھے اسی طرح حقوق العباد کی پاسداری میں بھی اپنی مثال آپ تھے ،زبان کو غیبت سے محفوظ رکھتے چنانچہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہخود فرماتے ہیں :”مجھے امید ہے کہ جب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 …سیر اعلام النبلاء ،ابو عبداللہ البخاری۔۔۔الخ،۱۰ /۲۸۵
2 … سیر اعلام النبلاء،ابو عبد اللہ البخاری۔۔۔الخ،۱۰/۲۸۹