غم سے دوچار ہوگئیں، پریشانی کے عالم میں انہوں نے رو رو کر دعائیں کی اور بارگاہِ الہٰی میں فریادی ہوئیں۔ ان دعاؤں کی قبولیت کا اثر یوں ظاہر ہواکہ ایک رات جب امام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ ماجدہ سوئیں توانہیں خواب میں حضرت سیّدناابراہیم خَلِیلُ اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زیارت ہوئی ،آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے خوش بخت بیٹے کی بینائی واپس آنے کی خوشخبری سنائی ، صبح وہ خواب حقیقت میں بدل گیا اوراس طرح امام بخاریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آنکھوں میں دوبارہ بصارت کا نور پید ا ہوگیا۔نیک والدہ کی پرورش او ر حلال رزق کھلانے کی برکت سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نےحضرت سیّدنا امام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو حیرت انگیزقوتِ حافظہ عطافرمایا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دس سال کی چھوٹی عمر میں ہی علمِ حدیث حاصل کرنا شروع کردیا اورصرف ایک سال میں متنِ حدیث اور سندِ حدیث پر اتنا عبو ر حاصل کرلیا کہ بعض اوقات آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے اساتذہ بھی اپنے بیان کردہ متن و سند کی دُرُستی کے لئے آپ کی مدد حاصل کرتے۔(1)
(۶)سترہزار حدیثوں کا کم سن حافظ:
حصول ِعلم کے ابتدائی زمانے میں حضرت سیّدنا امام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ستر ہزار احادیث یاد فرمالی تھیں چنانچہ حضرت سیّدنا محمد بن سلام رَحْمَۃُ اللہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… فتح الباری ،الفصل العاشر،ذکر نسبہ ومولدہ۔۔۔الخ،۱/۴۵۲