سے نجات عطا فرماکرہمارے قوت حافظہ میں برکت عطافرما۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِيْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(۵)متقی والدین کاذہین ترین فرزند:
حضرت سیّدنا امام مالکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شاگردحضرت سیّدنا اسماعیل بن ابراہیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نہایت متقی اور پرہیز گار تھے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کوشبہات سے پاک مال و دولت (یعنی ایسا مال جس میں مکروہ وحرام ہونے کا ذرّہ برابر بھی شائبہ نہ ہو ) سے نوازا تھا۔۱۳ شوال ١۹۴ہجری میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیّدنا اسماعیل بن ابراہیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بیٹے کی نعمت سے سرفراز فرمایا،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیٹے کا نام ”محمد“ رکھا اوریہ ہی”محمدبن اسماعیل “ آگے چل کر”امام بخاری“ کے لقب سے مشہور ہوئے۔
حضرت سیّدناامام بخاریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ ان کے والدحضرت سیّدنااسماعیل بن ابراہیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ انتقال فرماگئے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تربیت کی تمام تر ذمہ داری آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی نہایت ہی نیک اور پرہیز گار والد ہ پرآگئی۔بچپن میں حضرت سیّدنا امام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ایک اور تکلیف پہنچی کہ آپ کی بینائی چلی گئی، جس کی وجہ سے آپ کی والدہ شدید