Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
35 - 195
حقیقت سے آگاہ ہونا نیز ان دلائلِ شرعیہ سے مسائلِ دینیہ نکالنے پر قادر ہوناشرط  ہےاور بلاشبہ حضرت سیّدنا امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم میں یہ شرائط بدرجۂ اَتم پائی جاتی تھیں۔اجتہاد کے اس عظیم درجے پر فائز ہونے کے لئے جہاں بے حدذہین ہونا ضروری ہے وہیں بے پناہ قوتِ حافظہ کا مالک ہونا بھی ناگزیر ہے۔حضرت سیّدنا امام اعظم نعمان بن ثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حافظے میں قراٰن  و حدیث سے ماخوذہزاروں  دلائل ہر وقت موجود رہتے  اور اسی کی روشنی میں  ہر مسئلے کا حل ارشاد فرماتے تھے، یہ ہی وجہ  ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دنیا میں ’’امامِ اعظم‘‘ کے عظیم لقب سے مشہور ہوگئے۔
امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا قوت حافظہ جس طرح ظاہر ی علوم (یعنی قراٰن و حدیث،فقہ وغیرہ) کے سمندر کو اپنے اند ر سموئے ہوئے تھا ،اسی طرح باطنی علوم (اخلاص ،عاجزی،زہد و قناعت،صبر وشکر وغیرہ)کے جام  بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عملی زندگی سے  چھلکتے  تھے ،چنانچہ آپ کی زندگی کا یہ پہلو بھی ملاحظہ فامائیے: (۱)خوف ِخدا سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اتنا روتے کہ پڑوسیوں کو بھی آپ پر رحم آجاتا۔(۲)ریاکاری سے بچنے کے لیے طرح طرح کی تدابیر اختیار فرماتے۔ (۳)جب آپ پر کوئی مسئلہ واضح نہ ہوتا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں استغفار کرتے۔(۴) بے کار اور فضول باتوں میں نہ کبھی غور وفکر  فرماتے اور نہ انہیں سنتے۔